ریکوڈک معاہدہ: اضافی دستاویز پر اصل شکل بدل گئی ، سپریم کورٹ

[urdu]اسلام آباد ریکوڈک کیس میں ٹی تھیان کمپنی کے وکیل خالد انور اورحکومت بلوچستان کے وکیل احمربلال صوفی نے جواب الجواب میں اپنے دلائل مکمل کردیے ہیں ، چیف جسٹس نے کہا ہے۔ کہ آج مقدمے کی سماعت مکمل کرلی جائے گی ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سر براہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے ریمار کس دیے مشترکہ معاہدے میں حکومت بلوچستان نہیں بلکہ بلوچستان ڈویلپمنٹ اٹھارٹی فریق ہے، حکومت بلوچستان کو ریکوڈک معاہدے کی مکمل وضاحت پیش کرنا ہوگی ۔ ٹی تھیان کا پر کمپنی کے وکیل خالد انور نے کہا کہ بی ایچ پی نے کسی پر دباو ڈال کر مشتر کہ معاہدے پر دستخط نہیں کر وائے اور نہ ہی کمپنی کسی خلاف قانون کام کی مر تکب ہوئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سالوں تک ریکوڈک معاہدے پر کو ئی ایشو پیدا نہیں ہوا۔ اچانک ایسے کیا مسائل پیدا ہوگئے کہ نئی اضافی دستاویز جاری کرنا پڑیں ، انھوں نے کہا اضافی دستاویز سے ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل تبدیل نہیں کی جاسکتی   تھی ۔ بلوچستان حکومت کے وکیل احمر بلال صوفی نے کہا کہ مشترکہ معاہد ے کی کو ئی ضروت نہیں تھی ، اس معاہد ے میں حکومت بلوچستان پارٹی نہیں تھی ۔ نیوز کے مطابق چیف جسٹس نے کہا اضافی دستاویزات کی مدد سے ریکوڈک معاہدے کی اصل شکل کو تبدیل کیاگیا۔[/urdu]