zarb-e-azb

دہشت گردی کے خلاف جنگ: کریڈٹ نواز شریف کا، فوج کا یا پھر عمران خان کا؟

محترم جاوید چوہدری صاحب نے ایک کالم لکھا جسکے آغاز میں‌دہشت گردی کے خاتمے کا کریڈٹ نواز شریف کی حکومت کو دیتے ہوئے کہا گیا:‌
حکومت نے چار برسوں مں دہشتگردی 90 فصدہ کم کر دی‘ لوگ یہ کریڈٹ فوج کو دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے فوج 2013ء سے پہلے بھی موجود تھی‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی چھے سال فوج کے سربراہ رہے‘ یہ کام اگر صرف فوج کر سکتی تو جنرل کیانی ملک کو دہشتگردی سے پاک کر دیتے‘ یہ ان کے دور مں کیوں نہیں‌ ہوا؟
اور بھی بہت سے لوگ ہیں‌جو یہی سوال کرتے نظر‌آئیں‌گے آپکو سوشل میڈیا پر… تو سن لیجیے جواب:
اس لیے نہیں ہوا کہ اس دور میں عمران خان نہیں تھا۔ آرمی کبھی بھی کام نہیں کر سکتی جب تک اسکو سیاسی سپورٹ کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں‌کی حمایت حاصل نہ ہو۔

پرویز مشرف نے غلطی کی، امریکہ کی جنگ میں اسکا ساتھ دیا، دہشت گرد پاکستان کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ عمران خان 2002 سے کہ رہا ہے کہ یہ لڑائی ہماری نہیں اور اگر ہم اس لڑائی میں پڑے تو ہم نہیں جیت سکتے۔ آرمی نے سر توڑ کوشش کی اس جنگ کو جیتنے کے لیے مگر کامیاب نہیں ہوسکی۔
مسئلہ یہ تھا کہ مقامی لوگ طالبان کے حق میں تھے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں‌کہ ہندوستان اتنی بڑی آرمی کے باوجود کشمیر میں کامیاب کیوں نہیں؟ کیونکہ کشمیر کی عوام مجاہدین کو سپورٹ کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کے لوگ، خاص کر قبائلی علاقوں‌کی عوام اور کسی حد تک خیبرپختونخوا کے لوگ طالبان کو سپورٹ کرتے تھے۔ سپورٹ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں‌پاکستان پر ہی حملے کرتا تھا، ڈرون حملے ہوتے تھے، اور ان حملوں کا مقصد دہشت گردوں کا خاتمہ بتایا جاتا تھا مگر اس میں‌مقامی لوگ بھی مارے جاتے تھے۔
وہاں کی عوام میں یہ بات غصے کا سبب تھی اور انکے نزدیک پاکستان کی آرمی ہی انہیں‌مار رہی تھی کیونکہ جنگ میں‌پاک آرمی امریکہ کی اتحادی تھی۔ لہذا انکا ماننا تھا کہ جب آرمی ہمیں مار رہی ہے تو ہم آرمی کے مقابلے میں طالبان کی مدد کریں گے۔
اس جنگ کو جیتنے کے لیے ضروری تھا کہ ہم اپنے آپ کو امریکہ کی جنگ سے علیحدہ کریں۔ یہ بات نواز شریف نے بھی کی اور عمران خان نے بھی کی۔۔ نواز شریف نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ عمران خان نے پہل کی، میڈیا کو لیکر شمالی وزیرستان گیا جہاں کوئی سیاستدان جانے کا سوچتا بھی نہیں تھا۔ وہاں جا کر عمران خان نے دنیا کو پیغام دیا کہ ہماری عوام اس جنگ کا حصہ نہی بننا چاہتی کیونکہ یہ جنگ ہماری نہیں‌اور ہمیں‌اس جنگ کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے۔
سلیم صافی جیسے صحافیوں نے اعتراض کیا کہ شمالی وزیرستان کیوں گیا عمران خان؟ جنوبی وزیرستان کیوں نہیں گیا جہاں اصل دہشتگرد رہتے ہیں؟ پھر عمران خان جنوبی وزیرستان بھی گیا اور وہاں بین الاقوامی صحافیوں کو بھی ساتھ لیکر گیا۔ سلیم صافی نے پھر اعتراض کیا کہ عمران خان پاگل ہوگیا ہے یہ علاقے خطرناک ہیں، اگر کچھ ہوگیا تو پاکستان کا نام بدنام ہوگا۔ عمران خان نے اس مارچ کے شرکاء کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی صحافیوں‌کی زندگی کو خطرے میں‌ڈال دیا ہے۔
عمران خان نے کہا جو میرے ساتھ جا رہے ہیں انکو حفاظت سے واپس لانا میری ذمہ داری ہے۔ عمران خان جنوبی وزیرستان کی سرحد تک گیا اور وہیں سے واپس آگیا۔ عمران خان نے وہاں‌ڈرون حملوں‌کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا اور دنیا کو بتایا کہ یہ حملے نہ صرف ہماری خود مختاری کے خلاف ہیں، بلکہ امریکہ کی اس جنگ کی وجہ سے ہمیں‌بہت بڑے جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

imran-khan-pti-rally-south-Waziristan

Americans against Drones

یہ وہ وقت تھا جب پورا عالمی میڈیا دکھا رہا تھا کہ پاکستان کا ایک سیاستدان ان علاقوں میں گیا جہاں سے دہشت گردی پاکستان میں پھیل رہی ہے اور وہاں کے لوگ اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں‌سمجھتے، ساتھ ہی امریکی ڈرون حملوں‌کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کو نقصان ہورہا ہے بلکہ دہشت گردی میں‌اضافہ ہورہا ہے۔ ان حملوں‌میں‌جب کوئی بے گناہ مارا جاتا تو طالبان کے لیے آسان تھا اسکے لواحقین کو بدلہ کے لیے اکسانا اور انکو اپنے ساتھ شامل کر لینا۔
مگر ہمارا سلیم صافی پھر کہ رہا تھا کہ جانا تھا تو آگے تک جاتا یہ تو جنوبی وزیرستان کو ہاتھ لگا کر واپس آگیا۔ اور بھی بہت سے صحافی تھے جو شاید اپنی کم علمی یا پھر بھاری بھر کم لفافے ملنے کی وجہ سے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے میں‌مصروف تھے۔ عمران خان نے تمام تر تنقید کے باوجود یہ پیغام دنیا تک کامیابی سے پہنچا دیا۔
یہ تھی پہلی کامیابی۔ دنیا کو باور کروایا کہ یہ جنگ ہماری نہیں۔ امریکہ پر پہلا پریشر پڑا۔ یاد رہے یہ واقعات 2012 کے ہیں‌جب عمران خان کسی بھی طرح کسی بھی حکومت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی عمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف قومی یا صوبائی اسمبلی کا حصہ تھی۔

اگلی چیز تھی ڈرون حملے۔ نواز شریف نے بھی کہا کہ امریکہ ڈرون حملہ کرتی ہے تو لوگ بدلہ لینے کے لیے دہشت گرد بنتے ہیں۔ عمران نے بھی یہی بات کہی۔ یہاں بھی نواز شریف صاحب نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ انکو جب بھی کہا جاتا کہ ہماری سرزمین پر امریکہ حملہ کیوں‌کرتا ہے؟‌ وہ ملبہ پرویز مشرف پر ڈال دیتے کہ اس نے معاہدہ کیا تھا اب ہم کچھ نہی کر سکتے۔ جب امریکہ کی مرضی ہوگی تبھی ڈرون حملے رکیں گے۔
مگر عمران خان نے یہاں بھی عملی کام کیا۔ خیبر پختونخواہ سے افغانستان امریکی فوجیوں کو امداد جاتی تھی۔ عمران خان نے الیکشن 2013 کے بعد خیبر پختونخواہ حکومت بناتے ہی وہ راستہ بند کر دیا اور کہا جب تک امریکہ ڈرون حملے نہیں روکتا ہم اپنے راستے سے امداد نہیں جانے دیں گے۔
پورے میڈیا پر صحافی اور ن لیگی وزیر چیخنا شروع ہوگئے کہ عمران پاگل ہوگیا ہے، یہ ہماری جنگ کروائے گا امریکہ سے۔ ہم امریکہ سے لڑ نہیں سکتے عمران سے کہو سپلائی کھول دے اور پاکستان کو جنگ میں نہ دھکیلے۔ مگر عمران خان ڈٹا رہا۔ اسنے کہا راستہ چاہیے تو ڈرون حملے روکو۔
امریکہ نے راستہ بدل لیا، ایران کے راستے کچھ عرصہ افغانستان امداد بھیجی۔ ن لیگی وزیر اور صحافی عمران پر پھر ہنسے کہ کیا کر لیا عمران خان نے امداد بند کر کے؟ امریکہ سے ہمارے تعلقات بھی خراب ہوئے اورامریکہ تو اب بھی امداد بھیج رہا ہے ایران کے راستے۔ مگر وہ امداد امریکہ کو اتنی مہنگی پڑ رہی تھی کہ وہ چند ہفتوں سے زیادہ اسکو جاری نہ رکھ سکا۔
اور بالاآخر امریکہ نے پیغام دیا کہ ہم پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں کریں گے، ہمیں خیبر پختونخواہ سے ہی راستہ دیا جائے۔ ڈرون حملے رک گئے۔امریکہ کو امداد کا راستہ دوبارہ مل گیا۔ یہ تھی عمران خان کی دوسری بڑی کامیابی۔ اس نے بین الاقوامی سطح پر پہلے پیغام دیا کہ یہ جنگ پاکستان کی نہیں، پھر پیغام دیا کہ امریکہ کو کوئی حق نہیں‌کہ وہ ہماری سرزمین پر حملہ کرے. ہماری زمین ہے ہماری مرضی چلے گی۔ ‘دھرتی ہماری، مرضی ہماری’۔

dharti-hamari-marzi-hamari

KPK Govt protests against Drone Srikes

KPK Gov Protest to Stop Drone Strikes

ان باتوں سے قبائیلی علاقوں کے وہ لوگ جو پاکستانی فوج کے خلاف تھے انکے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت ختم ہونے لگی۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اب فوج ہمارے خلاف نہیں۔
تیسرا کام جو عمران خان نے کیا وہ طالبان کو کمزور کرنے کا کیا۔ نواز شریف بھی کہتا تھا کہ کچھ طالبان اچھے ہیں کچھ برے۔ عمران خان بھی کہتا تھا کہ ہمیں اچھے اور برے طالبان میں فرق کرنا ہوگا۔
اس بات پر پیپلز پارٹی نواز اور عمران دونوں کا مذاق اڑاتی تھی کہ یہ طالبان سے ڈرتے ہیں اس لیے ایسے بیان دیتے ہیں. یہاں بھی نواز شریف نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا مگر عمران خان نے کرنے والا کام کیا۔ اس نے سب سے پہلے بیان دیا کہ طالبان سے مذاکرات کریں۔
جو مذاکرات کریں گے اور پاکستان میں دہشت گردی نہیں کریں گے انکو ہم نوکریاں دیں گے، قومی دھارے میں واپس لائیں گے۔ اور جو مذاکرات نہیں کریں گے ان سے ہم جنگ کریں گے۔ عمران خان نے یہاں تک کہ دیا کہ طالبان کو پاکستان میں ایک آفیشل آفس بھی دیا جائے جہاں ہم ان سے بات چیت کر سکیں۔
اس بات پر ایک بار پھر صحافی کود پڑے میدان میں اور عمران خان کا خوب مذاق اڑایا۔ اسکو طالبان خان کہا. اسکو ڈرپوک انسان کہا جو لڑنے کی بجائے دہشت گردوں سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ مگر عمران کے اس بیان نے طالبان کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی۔ جو مقامی لوگ تھے وہ اب مکمل طور پر عمران خان کے حامی تھےاور انکا بھی یہی ماننا تھا کہ نہ یہ جنگ ہماری، نہ امریکہ کو یہ حق حاصل کہ وہ ہماری سرزمین پر حملے کرے۔ اور جو بھٹکے ہوئے لوگ تھے، جنکے عزیز ڈرون حملوں‌میں جاں بحق ہوئے تھے اور بدلہ کی غرض سے وہ طالبان کے ساتھ تھے، انہیں‌بھی سمجھ لگنے لگ گئی کہ ہمیں غیر ملکی طالبان کی مدد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہم آرمی سے جنگ جیت نہیں سکتے۔
اس معاملے پر طالبان دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ مذاکرات کا حامی تھا اور دوسرا گروہ جنگ کرنے کا۔
جو مذاکرات کرنا چاہتے تھے انکی اکثریت پاکستانی ہی تھے جو غیر ملکی طالبان کا ساتھ اس لیے دیتے تھے کیونکہ پاکستان سے ہی ان پر حملہ کیا جاتا تھا۔مگر جب انہیں لگنے لگا کہ پاکستان کی فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے تو انہوں نے غیر ملکی طالبان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کام کے بعد جب غیر ملکی طالبان کو مقامی لوگوں کی مدد حاصل نہ رہی تو انکے لیے پاکستان میں رہنا مشکل ہونے لگ گیا، کیونکہ پہلے وہ آبادی میں لوگوں کے ساتھ مل کر رہتے تھے۔ مگر جب مقامی لوگ خلاف ہوئے تو انہیں اپنے ساتھ رہنے کی اجازت بھی نہ دی اور ان طالبان کو پہاڑوں میں جانا پڑا۔
انہی دنوں میں آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوگیا۔ کیونکہ دہشت گرد طالبان یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم اب بھی پاور فل ہیں۔ پاکستان کی آرمی پہلے سے ہی پورا پلان بنائے بیٹھِی تھی، طالبان کمزور ہوچکے تھے، انکو مقامی لوگوں‌کی حمایت نہیں‌تھی اور اب ان پر حملہ کر کے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کا وقت آچکا تھا۔ انکو چُن چُن کر مارنے کا وقت آیا ہی چاہتا تھا کہ آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوگیا۔
اس حملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اورآپریشن ضربِ عضب شروع ہوا۔ یہ وہی آپریشن ہے جو شروع پہلے ہوا اور اسکا باقاعدہ اعلان وزیراعظم میاں‌محمد نواز شریف کی طرف سے بعد میں‌کیا گیا۔


لوگوں کو لگتا ہے کہ پورے ملک میں آپریشن ایک سکول پر حملے کی وجہ سے ہوا۔ حالانکہ حملہ آور تو سب کے سب مارے گئے تھے اور ایک واقعہ سے کسی بھی ملک کی آرمی اتنا بڑا آپریشن شروع نہیں کرتی۔ یہ آپریشن پہلے سے تیار تھا کیونکہ عمران خان کی سیاست کی وجہ سے طالبان کمزور ہوچکے تھے۔
کرنے والے سبھی کام عمران خان نے کیے۔ یہی چیز آرمی کو چاہیے تھی۔ جو عمران خان نے کی۔ اگر عمران یہ سب کچھ نہ کرتا تو نہ تو آرمی یہ جنگ جیت سکتی اور نہ نواز شریف دہشت گردی ختم کرنے کا دعوی کر سکتا۔
مشرقی پاکستان میں پاکستان کی آرمی کیوں جنگ ہاری؟ کیونکہ بنگال کی عوام آرمی کے خلاف ہوگئی تھی جب وہاں کی عوام نے ساتھ نہیں دیا تو ہمارے 90 ہزار فوجی قید ہوگئے وہاں پر۔ اسی طرح کشمیر میں کشمیر کی عوام مجاہدین کا ساتھ دیتی ہے اس لیے انڈیا کی 7 لاکھ آرمی بھی کشمیریوں کو کنٹرول نہیں کر پاتی۔
ہہی حال ہمارے ملک میں تھا، قبائلی طالبان کا ساتھ دیتے تھے ایسے میں آرمی انکا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ دنیا کی کوئی بھی آرمی اپنی ہی عوام کے خلاف جنگ نہیں‌کرسکتی۔ عمران خان نے قبائلیوں کو طالبان سے بد ظن کروایا، انکے دلوں سے آرمی کی اور پاکستان کی نفرت کو نکالا۔ اور جب وہ لوگ طالبان کے خلاف ہوئے تو پاک آرمی کو موقع ملا طالبان کو پاکستان میں‌چُن چُن کر مارنے کا۔

اس جنگ میں ، دہشت گردی کو ختم کرنے کا کریڈٹ اگر کسی کو جاتا ہے تو سب سے پہلے عمران خان کو، جس نے فوج کے لیے راستہ آسان کیا، اور اسکے بعد فوج کو جس نے اپنے سینکڑوں جوان شہید کروائے اس جنگ میں۔ جبکہ اس سے پہلے ایسے واقعات بھی ہوئے جب وزیرستان کے علاقوں میں‌پاک فوج کے جوانوں کے سر تن سے جدا کر کے ان سے فٹ بال کھیلا گیا۔
نواز شریف کا اگر اس جنگ میں کوئی کردار ہے تو صرف ایسے ہی ہے جیسے پاکستان انڈیا سے کرکٹ میچ جیت جائے، تو تماشائی کہتے ہیں ہماری دعاوں سے جیتا ہے پاکستان۔ نواز شریف کا بس اتنا ہی کردار ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہی۔