haq khateeb nasir madni

ٹک ٹاک مولوی: مولانا ناصر مدنی اغوا، تشدد، یوٹیوب چینل ہیک

مولانا ناصر مدنی نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے اغوا ہونے اور جسمانی تشدد ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے صاحبزادہ حق خطیب پر شک کا اظہار کر دیا

ناظرین مولانا ناصر مدنی صاحب المعروف ٹک ٹاک مولوی کو کون نہیں جانتا، جو اپنے چلبلے انداز کی وجہ سے نوجوانوں میں بے حد مشہور ہیں۔ ناظرین 17 مارچ بروز منگل کی صبح مولانا ناصر مدنی صاحب کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی جس میں یہ خبر دی گئی کہ ناصر مدنی صاحب کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں اور انکی حالت تشویشناک ہے۔
ناظرین یہ پیغام کسی نے کیمرے کے سامنے آکر نہیں دیا بلکہ سلائیڈز اور امیجز کی مدد سے یہ ویڈیو بنائی گئی اور وائس اور کا استعمال کرتے ہوئے اس خبر کو مولانا صاحب کے آفیشل چینل پر چلایا گیا، جبکہ ویڈیو کے اوپر آپکو نجی ٹی چینل بول ٹی وی کا لوگو بھی دکھائی دے گا۔ حالنکہ یہ خبر بول ٹی وی پر نشر نہیں کی گئی۔
اس سے با آسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایک فیک خبر تھی ۔ مگر بحر حال مولانا ناصر مدنی کے چاہنے والے اس ویڈیو کے اپلوڈ ہونے کے بعد انکے لیے دعائیں کرنے لگے جبکہ منگل کی ہی شام اس وقت تمام لوگوں کو شدید حیرت ہوئی جب مولانا ناصر مدنی صاحب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مولانا صاحب کا یوٹیوب چینل ہیک کر لیا گیا ہے اور یہ ویڈیو اسی ہیکر نے اپلوڈ کی ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ مولانا صاحب نے پریس کانفرس کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں چند نامعلوم افراد نے اغوا کر کے ان پر تشدد کیا، اور ان سے ایک خالی کاغذ پر دستخط کروائے گئے اور اسکے ساتھ ساتھ ان سے زبردستی گن پوائنٹ پر ایک نا مناسب بیان بھی ریکارڈ کروایا گیا جس میں ان سے ایک گھناونے جرم کا اعتراف کروایا گیا۔


ناظرین اسی پریس کانفرنس میں ناصر مدنی صاحب نے اپنی قمیص اتار کر اپنے جسم پر موجود تشدد کے نشانات بھی دکھائے۔ پریس کانفرنس کے دوران مولانا ناصر مدنی صاحب نے اپنی ایک مخصوص ویڈیو کی طرف اشارہ بھی کیا جس میں انہوں نے صاحبزادہ حق خطیب حسین صاحب کے پھونک سے دم کرنے پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ اگر یہ پھونکوں سے دم کرنے والے پیر صاحب کا دم کام کرتا ہے تو انہیں چائنہ بھیج دیا جائے جہاں یہ پھونکوں سے چائنہ کے لوگوں کا علاج کریں۔
ناصر مدنی صاحب نے کیا کہا تھا، سنیے اس ویڈیو میں:
اپنی پریس کانفرنس میں ناصر مدنی نے کہا کہ اس مخصوص ویڈیو کے بعد انہیں دھمکی آمیز کمنٹس اور میسجز ملنے لگے اور پھر یہ واقعہ پیش آگیا جس میں انہیں اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا، انکا زبردستی ویڈیو بیان لیا گیا اور خالی کاغذ پر دستخط بھی لیے گئے اور پھر انکا چینل ہیک کر کے ایک فیک خبر چلائی گئی جس میں کہا گیا کہ ناصر مدنی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔
ناصر مدنی صاحب نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس پورے واقعہ کے پیچھے صاحبزادہ حق خطیب حسین صاحب یا انکے مریدین ہوسکتے ہیں۔ ناصر مدنی صاحب کا پیر صاحب کی پھونکوں والے دم پر کرونا وائرس کا طنز کرنا اور پھر انکے چینل پر ناصرمدنی صاحب کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی ویڈٰو چلنا اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پیر صاحب نے ناصر مدنی صاحب کی طرف سے کیے گئے طنز کا بدلہ لیا ہے۔

ناظرین اگر ایسا ہے تو یقینی طور پر ہمارا یہ مطالبہ ہوگا کہ صاحبزادہ حق خطیب صاحب کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ مگر ناظرین تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہوسکتا ہے۔
ناظرین ایسا بھی ممکن ہے کہ مولانا ناصر مدنی صاحب سے واقعی میں کوئی ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہو جو انکی شخصیت کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہو اور پکڑے جانے پرناصر مدنی صاحب نے یہ سب ڈرامہ رچایا ہو۔ اور خود ہی اپنے چینل سے ایک ایسی ویڈیو اپلوڈ کروا دی گئی ہو جس سے شک پیر صاحب کی طرف جائے۔
ناظرین اگر ایسا ہوا ہو تو اس صورت میں ناصر مدنی صاحب ڈبل سزا کے مستحق ہونگے ایک تو انہوں نے پہلے گناہ کیا اور پھر اسکو چھپانے کے لیے کسی اور پر الزام لگانے کی سزا بھی انہیں ملنی چاہیے۔
ناظرین ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا اس سارے واقعہ کے پیچھے حق خطیب صاحب ہیں یا پھر یہ ناصر مدنی صاحب کا اپنا رچایا ہوا کھیل ہے۔

ناظرین اس سارے واقعہ کا ایک تیسرا رخ بھی ہوسکتا ہے۔ اس واقعہ کے پیچھے کوئی پس پردہ چہرہ ہوسکتا ہے۔ کوئی آستین کا سانب ہوسکتا ہے جسکو مولانا ناصر مدنی صاحب یاپھر صاحبزادہ حق خطیب صاحب کےساتھ ذاتی دشمنی ہو اور اس نے اپنی دشمنی نکالنے اور بدلہ لینے کی خاطر ناصر مدنی صاحب کو اغوا کرنے کے بعد انکے آفیشل یوٹیوب چینل سے ایک ایسی ویڈیو اپلوڈ کر دی ہو جس سے ناصر مدنی سمیت اور لوگوں کا شک بھی پیر حق خطیب صاحب کی طرف جائے۔
ناظرین اس سارے واقعہ کے بعد یقینی طور پر پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ اصل کہانی کا پتا لگایا جائے۔ ہماری پاکستان کی پولیس ایف آئی اے اور دوسری سیکورٹی ایجینسز سے گزارش ہوگی کہ اس واقعہ کی جلد سے جلد انویسٹیگیشن کی جائے اور قصور وار کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
اگر اس واقعہ کے پیچھے پیر حق خطیب صاحب یا انکے مریدین کا ہاتھ ہے تو انہیں قانون کے شکنجے میں جکڑا جائے، یا پھر اگر یہ سارا ڈرامہ ناصر مدنی صاحب نے خود رچایا ہے تو انکو اسکی سزا ملنی چاہیے اور تیسری صورت میں اگر کوئی آستین کا سانپ ہے جس نے پس پردہ رہتے ہوئے یہ سارا کھیل کھیلا تو سیکورٹی ایجینسیز کو وہ چہرہ بھی بے نقاب کرنا ہوگا۔

ناظرین آپکی اس تمام واقعہ کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپکے نزدیک کونسی بات زیادہ صحیح ہوسکتی ہے، اس بارے میں ہمیں کمنٹس میں بتائیں۔ اور ہماری آپ سے گزارش ہوگی کہ جب تک اس کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا اور قصور وار کا تعین نہیں ہوجاتا تب تک مولانا ناصر مدنی اور صاحبزہ حق خطیب صاحب کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کی جائے۔